معاہدہ ہو جاتا تو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نہ لگتی: محسن نقوی
معاہدہ ہو جاتا تو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نہ لگتی: محسن نقوی کا سینیٹ میں بڑا انکشاف۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ حکومت میں سے کوئی بھی ایمرجنسی کا نفاذ نہیں چاہتا تھا؛ دہشت گردی سمیت تمام نکات اور بار بار کی تبدیلیاں تسلیم کرنے کے باوجود کے پی قیادت نے دو دن کی محنت ضائع کر دی۔
سینیٹ کے اہم اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے پس منظر پر سے پردہ اٹھایا ہے۔ امید نیوز کی رپورٹ کے مطابق وزیر داخلہ نے ایوان کو بتایا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات انتہائی مثبت سمت میں جا رہے تھے اور اگر طے شدہ معاہدے پر دستخط ہو جاتے تو آج صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی نوبت ہی نہ آتی۔
دہشت گردی کے 7 سے 8 نکات پر اتفاق اور ڈرافٹ کی تبدیلیاں
امید نیوز کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ کو بریفنگ دیتے ہوئے محسن نقوی نے بتایا کہ ایوان کے اندر شروع ہونے والے مذاکرات کا بنیادہ نقطہ دہشت گردی کا خاتمہ تھا، جس کے 7 سے 8 اہم نکات پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اپوزیشن کی جانب سے چوتھی بار بھی ڈرافٹ میں 6 مختلف تبدیلیاں تجویز کی گئیں جنہیں حکومت نے ملک و قوم کی بہتری کے لیے من و عن قبول کر لیا تھا۔
کے پی حکومت اور مراد سعید پر مذاکرات کی ناکامی کا ملبہ
وزیر داخلہ نے بتایا کہ جب تمام امور حتمی طور پر طے پا گئے تو معاہدے کا تحریری ڈرافٹ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے حوالے کیا گیا، جنہوں نے وہ متن مراد سعید کو بھیجا اور وہاں سے اعتراضات کے بعد دو دن کی تمام تر سیاسی و آئینی محنت ضائع ہو گئی۔ محسن نقوی نے واضح کیا کہ حکومت میں شامل کوئی بھی رکن یا ادارہ ہنگامی صورتحال کے حق میں نہیں تھا، مگر کے پی قیادت کے ضدی رویے نے اس آئینی اقدام کی راہ ہموار کی۔