وائٹ ہاؤس کریسپونڈنٹس ڈنر پر حملہ: 31 سالہ کیلیفورنیائی استاد کول ٹوماس ایلن کون ہے؟

1777208945079

صدر ٹرمپ کو ایواکیویٹ کرایا گیا! وائٹ ہاؤس کریسپونڈنٹس ڈنر پر 31 سالہ ‘تنہا بھیڑیا’ کا مسلح حملہ

واشنگٹن: ہفتے کی رات واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں وائٹ ہاؤس کریسپونڈنٹس ایسوسی ایشن کی سالانہ ڈنر تقریب کے دوران ایک ہنگامہ خیز فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور دیگر اعلیٰ شخصیات تقریب میں موجود تھیں، جب ایک مسلح شخص نے سیکیورٹی چیک پوائنٹ پر حملہ کر کے فائرنگ شروع کر دی۔
حکام نے فوری طور پر صدر ٹرمپ سمیت تمام اہم مہمانوں کو محفوظ مقام پر منتقل کر لیا۔ خوش قسمتی سے کوئی بڑا جانی نقصان نہیں ہوا، البتہ ایک سیکریٹ سروس اہلکار زخمی ہوا، جو بلیٹ پروف ویسٹ کی بدولت محفوظ رہا۔
حملہ آور کی شناخت
حملہ آور کی شناخت کول ٹوماس ایلن (Cole Tomas Allen) کے نام سے ہوئی ہے۔ وہ 31 سالہ کیلیفورنیا کے شہر ٹورینس (Torrance) کا رہائشی ہے۔ پولیس نے اسے موقع پر ہی گرفتار کر لیا۔
ایلن کے پاس شاٹ گن، ہینڈ گن اور متعدد چھریاں تھیں۔ اس نے سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ کیا اور تقریباً 5 سے 8 گولیاں چلائیں۔
کول ایلن کا پس منظر — ایک تعلیم یافتہ اور کامیاب پروفائل
تعلیم: کیلٹیک (California Institute of Technology) سے مکینیکل انجینئرنگ میں بیچلرز (2017) اور کیلیفورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز (2025)۔
پیشہ: جز وقتی استاد (Tutor) — C2 Education میں کام کرتا تھا جہاں دسمبر 2024 میں اسے "Teacher of the Month” کا اعزاز ملا۔ ساتھ ہی خود کا گیم ڈویلپر (امateur video game developer)۔
سیاسی پس منظر: وہ ڈیموکریٹک پارٹی کا حامی تھا اور 2024 کے صدارتی الیکشن میں کملا ہیرس کی مہم کے لیے چھوٹا عطیہ بھی دیا تھا۔
سوشل میڈیا اور لنکڈ اِن پروفائل کے مطابق وہ ایک ذہین، تخلیقی اور تعلیم سے وابستہ نوجوان تھا۔
تفتیش اور الزامات
حکام کا کہنا ہے کہ ایلن تقریب کے ہوٹل میں بطور مہمان ٹھہرا ہوا تھا۔ ابتدائی تفتیش میں "lone wolf” (تنہا حملہ آور) کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس کے محرک کا ابھی پتہ نہیں چل سکا ہے اور FBI کی مکمل تفتیش جاری ہے۔
امریکی اٹارنی جنرل جینین پیرو کے مطابق ایلن پر دو الزامات عائد کیے جا چکے ہیں:
Crime of violence کے دوران فائرنگ کا استعمال
وفاقی اہلکار پر خطرناک ہتھیار سے حملہ
مزید سنگین الزامات (بشمول صدر پر قاتلانہ حملے کی کوشش) لگائے جا سکتے ہیں۔ اسے پیر کے روز عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ کا ردعمل
صدر ٹرمپ نے واقعے کے بعد کہا کہ سیکیورٹی کے معیار پر نظرثانی کی جائے گی اور حملہ آور کو سخت سزا دی جائے گی۔
یہ واقعہ امریکی تاریخ میں وائٹ ہاؤس کریسپونڈنٹس ڈنر جیسی اعلیٰ ترین تقریب پر ہونے والا ایک نادر اور تشویش ناک حملہ ہے، جو سیکیورٹی کے نظام پر سوالات اٹھا رہا ہے۔
تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے جڑے رہیں — تفتیش کے نئے انکشافات سامنے آتے ہی آپ تک پہنچائیں گے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے