ایران نے امریکی لڑاکا طیارہ مار گرایا، پائلٹس کی تلاش جاری — امریکی حکام کی تصدیق

US Jet

تہران/واشنگٹن — مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع میں ایک اہم اور خطرناک پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایرانی فوج نے ایک امریکی F-15E Strike Eagle لڑاکا طیارہ اپنی فضائی حدود میں مار گرایا ہے، جبکہ امریکی حکام نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے عملے کی تلاش و ریسکیو آپریشن جاری ہونے کا اعلان کیا ہے۔
امریکی ذرائع (جن میں Reuters، Axios، CNN اور دیگر شامل ہیں) کے مطابق، طیارہ ایران کے جنوب مغربی علاقے میں گرایا گیا۔ طیارے میں دو پائلٹس سوار تھے، جن کے ایجیکٹ ہونے کی اطلاعات ہیں۔ امریکی فوج نے فوری طور پر Combat Search and Rescue (CSAR) آپریشن شروع کر دیا ہے، جس میں HC-130J اور UH-60 Black Hawk ہیلی کاپٹرز سمیت دیگر طیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے ملبے کی تصاویر جاری کی ہیں، جن کا تجزیہ F-15E Strike Eagle کی نشاندہی کرتا ہے۔ ابتدائی طور پر ایران نے F-35 کا دعویٰ کیا تھا، لیکن بعد میں ملبے کی بنیاد پر F-15E کی تصدیق ہوئی۔ ایرانی میڈیا نے علاقائی لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ "دشمن پائلٹس” کو تلاش کریں اور انہیں حکام کے حوالے کریں، جس کے بدلے "قیمتی انعام” کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
یہ واقعہ آپریشن Epic Fury کے دوران پیش آیا ہے، جو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری فضائی مہم کا حصہ ہے۔ F-15E Strike Eagle، جو 494th Fighter Squadron سے تعلق رکھتا ہے، ایک طاقتور dual-role لڑاکا طیارہ ہے جو زمینی اہداف کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ فضائی لڑائی میں بھی ماہر سمجھا جاتا ہے۔
امریکی حکام نے اب تک پائلٹس کی حالت یا ریسکیو آپریشن کی تفصیلات جاری نہیں کیں، البتہ انہوں نے واضح کیا ہے کہ "اپنے اہلکاروں کو پیچھے نہیں چھوڑا جائے گا”۔ ایرانی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ریسکیو کی کوششیں ناکام ہو گئیں، جبکہ کچھ رپورٹس میں پائلٹ کی گرفتاری کا ذکر بھی ہے — تاہم یہ دعوے ابھی آزادانہ طور پر تصدیق شدہ نہیں۔
یہ پہلا ایسا تصدیق شدہ واقعہ ہے جس میں ایک امریکی manned لڑاکا طیارہ ایرانی فضائی دفاع کے ہاتھوں گرایا گیا ہو۔ ماہرین کے مطابق، یہ واقعہ علاقائی تنازع کی شدت کو مزید بڑھا سکتا ہے اور دونوں طرف سے جوابي کارروائیوں کا خطرہ پیدا کر رہا ہے۔
صورتحال اب بھی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ امریکی فوج اور ایرانی حکام دونوں ہی پائلٹس کی تلاش میں مصروف ہیں — ایک طرف ریسکیو ٹیمیں، دوسری طرف ایرانی فورسز اور مقامی لوگ۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے