ایمان اور جدید انسان
ایمان اور جدید انسان
تحریر: ایس ایم شاہ
اللہ تعالی ہر انسان کو کامیاب دیکھنا چاہتا ہے۔ کامیابی یعنی جس مقصد کے لیے انسان کو خلق کیا گیا ہے اس مقصد تک رسائی۔ ایمان یعنی دل سے اللہ، رسولوں اور ائمہ اہل بیت علیہم السلام پر کامل یقین رکھنا۔ اسی ایمان کی بنیاد پر دیگر اعمال انجام پاتے ہیں۔ ایمان کے بغیر عمل روح کے بغیر جسم کی مانند ہے۔ جس طرح روح دکھائی دینے والی چیز نہیں کیونکہ یہ غیر مادی وجود ہے۔ انسان کے حرکات و سکنات سے آثار حیات کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح ایمان بھی قابل مشاہدہ مادی وجود نہیں، بنابریں ہر ایک کے اعمال کے ذریعے اس کی سطح ایمانی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ گویا ایمان انسان کے لیے موٹیویٹر کی حیثیت رکھتا ہے۔
اکیسویں صدی کا انسان بظاہر ترقی کی بلندیوں پر کھڑا ہے۔ سائنس نے کائنات کے راز کھول دیے ہیں، ٹیکنالوجی نے فاصلے سمیٹ دیے ہیں اور معلومات انسان کی انگلیوں کے اشارے پر موجود ہیں، مگر اس ظاہری ترقی کے باوجود ایک سوال پوری شدت کے ساتھ ابھر رہا ہے: کیا جدید انسان واقعی مطمئن ہے؟ مفکرین اور دانشور اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ آج کا سب سے بڑا بحران معاشی یا سائنسی نہیں بلکہ فکری اور روحانی ہے اور اس بحران کی جڑ ایمان سے دوری ہے۔
مغربی تہذیب نے انسان کو مادّی آسائشیں تو دیں، مگر اسے اس کے باطن سے کاٹ دیا۔ زندگی کو محض نفع و نقصان، خواہش اور لذت کے پیمانے پر پرکھا جانے لگا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سہولتیں بڑھتی گئیں مگر سکون کم ہوتا چلا گیا۔ جدید انسان کے پاس سب کچھ ہے، مگر وہ خود کو تنہا، بے مقصد اور غیر محفوظ محسوس کرتا ہے۔ مادر پدر آزاد ملک ہونے کے نتیجے میں 2023 کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں ٹوٹل پیدائشوں کی تعداد تقریبا 3.6 ملین تھی۔ ان میں سے تقریبا 40% شادی کے بغیر متولد ہوئے تھے۔ یعنی ہر سال تقریبا 1.5 ملین بچے ناجائز طریقے سے یعنی غیر قانونی طریقے سے وجود میں آتے ہیں۔ شادی شدہ خواتین میں سے بھی 15٪ خواتین اپنے شوہروں سے خیانت کرتی ہیں۔ جبکہ 25٪ مرد اپنی بیویوں سے خیانت کرکے دوسری لڑکیوں سے غیر قانونی روابط برقرار کرلیتے ہیں۔ 1970 میں 54٪ خاندانوں میں اٹھارہ سال سے کم عمر کے بچے ہوتے تھے جو 2024 میں کم ہوکر صرف 39% خاندانوں کے ہاں اٹھارہ سال سے کم عمر کے بچے موجود ہیں۔ یعنی ہر 100 فیملی میں سے صرف 39 فیملی کے ہاں بچے ہیں باقی 61٪ جوڑوں کے ہاں بچے ہے ہی نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایمان کی ضرورت ایک بار پھر شدت کے ساتھ محسوس ہوتی ہے، کیونکہ ایمان ہی انسان کو یہ یقین دلاتا ہے کہ زندگی محض اتفاق نہیں بلکہ یہ بامقصد امانت ہے۔
ایمان جدید انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ ترقی کا اصل معیار دولت یا طاقت نہیں بلکہ اخلاق اور ذمہ داری ہے۔ جب ایمان دل میں راسخ ہوتا ہے تو انسان سائنس کو خدا بننے نہیں دیتا بلکہ اسے خدمتِ انسانیت کا ذریعہ بناتا ہے۔ ایمان عقل کی نفی نہیں کرتا بلکہ اسے حدود اور سمت عطا کرتا ہے، تاکہ علم انسانیت کے لیے رحمت بنے، زحمت نہیں۔ اسی ایمان کے فقدان نے آج دنیا کو اسلحے کی دوڑ، ماحولیاتی تباہی اور اخلاقی انحطاط کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
معاصر مفکرین اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ ایمان کے بغیر آزادی بے لگام ہو جاتی ہے۔ جب انسان خود کو کسی اعلیٰ اخلاقی قانون کا پابند نہیں سمجھتا تو طاقتور کمزور کو روند ڈالتا ہے اور مفاد حق پر غالب آ جاتا ہے۔ ایمان انسان کے اندر جواب دہی کا وہ احساس بیدار کرتا ہے جو کسی قانون، عدالت یا نگرانی کے بغیر بھی اسے ظلم سے روکے رکھتا ہے۔ یہی احساس فرد کو امانت دار، حکمران کو عادل اور تاجر کو دیانت دار بناتا ہے۔
جدید دور کی ذہنی بیماریاں، اضطراب اور ڈپریشن کے بڑھتے ہوئے واقعات بھی اس بات کی خاموش گواہ ہیں کہ انسان کا دل ایمان سے خالی ہو چکا ہے۔ امریکہ میں 2017 میں اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کی ڈپریشن کی سطح 7.1 تھی جو 2025 میں امریکہ کے دو قومی سطح کے سروے NHIS اور NHANES، یعنی نیشنل ہیلتھ انٹرویو سروے اور نیشنل ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن ایگزامینیشن سروے کے مطابق اس وقت بالغ افراد میں ڈپریشن کی سطح 19 فیصد ہوگئی ہے۔ یعنی امریکی مجموعی آبادی میں سے 66 ملین یعنی سات کروڑ کے لگ بھگ افراد ذہنی ڈپریشن کا شکار ہیں۔ یعنی ہر پانچ افراد میں سے ایک شخص ڈپریشن کا شکار ہے۔ یہ حال ہے اس امریکا کا جو پوری دنیا کے امن و سکون کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے وہ خود اندر سے کتنا کھوکھلا ہے۔ پھر 14 وہ ممالک جن میں سب سے زیادہ Anti depration استعمال کیے جاتے ہیں ان میں بھی امریکہ سرفہرست ہے۔ پھر بالترتیب آئس لینڈ، پرتگال، کینیڈا، سویڈن، سپین، چلی، نیوزی لینڈ، فن لینڈ، ڈنمارک، یونان، اسرائیل، ناروے اور لکسمبرگ ہیں۔ یعنی کوئی بھی اسلامی ملک اس فہرست میں شامل نہیں ہے۔
عرفاء کے نزدیک ایمان دل کی وہ غذا ہے جس کے بغیر روح کمزور ہو جاتی ہے۔ جب انسان خدا سے جڑتا ہے تو وہ حالات کا اسیر نہیں رہتا، بلکہ مشکلات کو معنی کے ساتھ قبول کرتا ہے۔ ایمان اسے سکھاتا ہے کہ ناکامی انجام نہیں بلکہ آزمائش ہے اور تکلیف بے معنی نہیں بلکہ تربیت کا ذریعہ ہے۔
آج کے فکری انتشار میں ایمان کی طرف واپسی کسی رجعت پسندی کا نام نہیں بلکہ ایک شعوری انتخاب ہے۔ یہ واپسی انسان کو ماضی میں نہیں لے جاتی بلکہ اسے مستقبل کے لیے متوازن، بااخلاق اور باوقار بناتی ہے۔ ایمان جدید انسان کو یہ پیغام دیتا ہے کہ ترقی وہی پائیدار ہے جس کے ساتھ انسانیت محفوظ رہے اور وہی تہذیب زندہ رہتی ہے جس کی بنیاد یقین، اخلاق اور روحانی اقدار پر ہو۔
مختصر یہ کہ ایمان آج بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کل تھا، بلکہ شاید اس سے بھی کہیں زیادہ۔ مادیت کے شور میں دبتی ہوئی انسانی روح کو اگر دوبارہ زندگی دی جا سکتی ہے تو وہ صرف ایمان کے نور سے ممکن ہے۔ یہی ایمان جدید انسان کو خودی کی پہچان، زندگی کو مقصد اور دنیا کو عدل و انصاف کا گہوارہ بنا سکتا ہے۔
نوٹ: امید نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blogs@umeednews.com ای میل یا ہمارے Whatsapp 009233337898559 پر سینڈ کردیجیے۔