دسمبر، جنوری اور فروری بجلی صارفین کے لیے مشکل ترین مہینے ہونے کا خدشہ، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ میں 3 گنا تک اضافے کا امکان

Electric metor

اسلام آباد — 30 اکتوبر، 2026 — پاکستان بھر کے بجلی صارفین کے لیے آنے والے سردیوں کے تین مہینے—دسمبر، جنوری اور فروری—مالی لحاظ سے سخت ترین ثابت ہونے کا خدشہ ہے، کیونکہ عالمی منڈی میں ایندھن کی بلند قیمتوں اور مقامی پیداواری مسائل کی وجہ سے بجلی کی فی یونٹ لاگت میں نمایاں اضافے کی توقع ہے—یہ تفصیلی معلومات امید نیوز کو پاور ڈویژن کے باوثوق ذرائع سے حاصل ہوئی ہیں۔

فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (FPA) میں 2 سے 3 گنا اضافے کا امکان

پاور ڈویژن کے ذرائع کے مطابق دسمبر، جنوری اور فروری کے مہینوں میں ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (FPA) کی مد میں 2 سے 3 گنا تک بڑا اضافہ ہو سکتا ہے۔

ایل این جی، کوئلے اور دیگر درامدی ایندھن کی عالمی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے بجلی کی قومی پیداواری لاگت کو مہنگا ترین بنا دیا ہے، جس کا مستقیم بوجھ صارفین کے ماہانہ بلوں پر منتقل ہونے کا پورا خدشہ ہے۔

سردیوں میں بجلی مہنگی ہونے کی بنیادی وجوہات

توانائی کے ماہرین اور پاور ڈویژن کے ذرائع نے بجلی کی پیداواری لاگت میں اضافے کی درج ذیل اہم وجوہات کی نشان دہی کی ہے:

  • پن بجلی (ہائیڈل) پیداوار میں کمی: سردیوں کے موسم میں دریاؤں اور ڈیموں میں پانی کی آمد کم ہونے کے باعث سب سے سستی ‘پن بجلی’ کی پیداوار شدید متاثر ہوتی ہے، جس سے نظام کو مہنگے ایندھن پر چلنے والے پاور پلانٹس پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

  • مقامی گیس کی شدید قلت: سردیوں میں گھریلو صارفین کے لیے گیس کی طلب بڑھ جانے کے باعث پاور پلانٹس کو مقامی گیس کی فراہمی ممکن نہیں رہتی، جس کے نتیجے میں مہنگی درامدی ایل این جی (LNG) پر انحصار بڑھ جاتا ہے۔

  • عالمی منڈی کا دباؤ: عالمی منڈی میں ایندھن کی اونچی قیمتوں کے باعث پاور جنریشن کمپنیوں کے اخراجات بڑھ رہے ہیں جنہیں نیپرا کے قواعد کے مطابق صارفین سے وصول کیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ مہینوں میں بوجھ کم رکھنے کے لیے تمام تر انتظامی اقدامات کیے گئے، تاہم عالمی مارکیٹ میں ایندھن کی مسلسل بلند قیمتوں کے باعث اب ریلیف کی گنجائش انتہائی محدود ہو چکی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے