سوشل میڈیا کا وائرل رجحان ‘فیرٹِن فیس’: کیا آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے واقعی آئرن کی کمی کی علامت ہیں؟
اسلام آباد — 29 اکتوبر، 2026 — سوشل میڈیا پر آج کل ’فیرٹِن فیس‘ (Ferritin Face) کے نام سے ایک نیا رجحان شدید بحث کا مرکز بنا ہوا ہے، جس میں آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقوں، چہرے کی زردی، بال جھڑنے اور ہونٹوں کے کناروں پر دراڑوں کو جسم میں آئرن کی کمی سے جوڑا جا رہا ہے—یہ تفصیلی معلومات امید نیوز کو طبی ماہرین کی آراء سے حاصل ہوئی ہیں۔
ماہرینِ صحت نے اس رجحان پر وضاحت کرتے ہوئے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ صرف چہرے کی ظاہری حالت دیکھ کر آئرن کی کمی کا نتیجہ اخذ کرنا طبی لحاط سے بالکل نادرست ہے، کیونکہ ان علامات کی کئی دیگر وجوہات بھی ہو سکتی ہیں۔
فیرٹِن (Ferritin) کیا ہے اور اس کا جسمانی کردار؟
فیرٹِن بنیادی طور پر ایک پروٹین ہے جو انسانی جسم میں آئرن (لوہے) کو ذخیرہ کرنے کا کام کرتا ہے۔ آئرن ہیموگلوبن بنانے کے لیے نہایت ضروری جزو ہے، جو سرخ خلیات کے ذریعے جسم کے تمام حصوں اور اعضاء تک آکسیجن پہنچاتا ہے۔ اگر جسم میں فیرٹِن اور آئرن کے ذخائر شدید کم ہو جائیں تو انسان ‘آئرن ڈیفیشنسی انیمیا’ (خون کی کمی) کا شکار ہو سکتا ہے۔
چہرے کی ظاہری علامات اور ان کی طبی حقیقت
طبی ماہرین نے ‘فیرٹِن فیس’ سے منسوب علامات کی حقیقت پر روشنی ڈالی ہے:
-
آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے: بعض افراد میں آئرن کی کمی سے سیاہ حلقے زیادہ نمایاں ہو سکتے ہیں، لیکن یہ آئرن کی کمی کی کوئی حتمی یا قابلِ اعتماد علامت نہیں۔ جینیاتی خصوصیات، عمر میں اضافہ، نیند کی کمی، الرجی اور جلد کی خلیاتی ساخت سیاہ حلقوں کی زیادہ عام وجوہات ہیں۔
-
چہرے کی زردی: ہیموگلوبن کی سطح گرنے سے جلد معمول سے زیادہ زرد دکھائی دے سکتی ہے، تاہم رنگت میں تبدیلی کی دیگر طبی وجوہات بھی ہو سکتی ہیں۔
-
بالوں کا جھڑنا: آئرن کی کمی سے بال گر سکتے ہیں، لیکن ذہنی دباؤ (اسٹریس)، تھائیرائیڈ کے مسائل، ہارمونز میں تبدیلی اور وٹامنز کی کمی بھی اس کا باعث بنتی ہے۔
-
ناخنوں کی کمزوری (کوئلونیچیا): شدید کمی کی صورت میں ناخن چمچ کی طرح اندر دھنس سکتے ہیں، جسے کوئلونیچیا کہا جاتا ہے۔
-
ہونٹوں کے کونوں پر دراڑیں: منہ کے کناروں پر زخم آئرن اور وٹامن بی کی کمی کے علاوہ فنگل انفیکشن یا جلد کی جلن کی وجہ سے بھی ہو سکتے ہیں۔
آئرن کی کمی کی اصل اور اہم طبی علامات
ماہرین کے مطابق آئرن کی کمی کی حقیقی علامات میں مسلسل تھکاوٹ، توانائی میں کمی، سانس پھولنا، دل کی دھڑکن کا تیز ہونا، سر درد، چکر آنا اور توجہ مرکوز کرنے میں دشواری شامل ہیں۔ ابتدائی مراحل میں کئی افراد میں کوئی واضح علامت ظاہر نہیں ہوتی۔
تشخیص کے لیے خون کے ٹیسٹ اور خود علاج کے خطرات
طبی ماہرین نے سوشل میڈیا دیکھ کر خود سے آئرن کی گولیاں یا سپلیمنٹس لینے سے سخت منع کیا ہے، کیونکہ جسم میں آئرن کی حد سے زیادہ مقدار جگر اور دل کے لیے انتہائی زہریلی اور نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
جسم میں آئرن کی درست صورتحال جاننے کے لیے ڈاکٹر کے مشورے سے ‘فیرٹِن ٹیسٹ’ (Serum Ferritin) اور ‘سی بی سی’ (CBC) کروانا ہی واحد اور قابلِ اعتماد راستہ ہے۔