کار سرکار میں مداخلت کیس: انسداد دہشتگردی عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 10، 10 سال قید کی سزا سنادی
اسلام آباد — 29 اکتوبر، 2026 — اسلام آباد کی انسدادِ دہشتگردی عدالت (ATC) نے سیکورٹی بیریئر ہٹانے اور کارِ سرکار میں مداخلت کے مقدمے میں معروف حقوقِ انسانی کی وکیل ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر ایڈووکیٹ ہادی علی چٹھہ کو 10، 10 سال قیدِ با مشقت اور جرمانے کی سزا سنا دی ہے—یہ تفصیلات امید نیوز کو عدالتی ذرائع سے حاصل ہوئی ہیں۔
اڈیالہ جیل میں فیصلہ اور جرمانے کی تفصیلات
انسدادِ دہشتگردی عدالت اسلام آباد کے جج طاہر عباس سپرا نے مقدمے کا فیصلہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں سنایا۔ فیصلے کے تحت عدالت نے دونوں مجرمان کو مختلف دفعات کے تحت 10، 10 سال قید کے ساتھ 50 ہزار روپے فی کس کے حساب سے جرمانے کی سزائیں بھی عائد کی ہیں۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق تین مختلف انفرادی دفعات کے تحت ملزمان کی مجموعی سزا 13 سال بنتی تھی، تاہم قانون کی دفعہ 182 کا فائدہ ملنے کے باعث ملزمان کو 10 سال کی قید کاٹنا ہو گی۔
کیس کا پس منظر، فردِ جرم اور عدالتی کارروائی
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف اسلام آباد میں بین الاقوامی وفد کی آمد کے موقع پر سیکیورٹی بیریئر ہٹانے اور پولیس اہلکاروں سے الجھنے پر 25 اکتوبر 2024 کو مقدمہ درج کیا گیا تھا:
-
فردِ جرم اور گواہان: عدالت نے مقدمے میں ملزمان پر 7 اکتوبر کو باضابطہ فردِ جرم عائد کی تھی، جبکہ پراسیکیوشن کی جانب سے سماعت کے دوران مجموعی طور پر 7 گواہان کے بیانات قلمبند کروائے گئے۔
-
اسٹیٹ کونسل کی جرح: عدالت کی جانب سے مقرر کردہ اسٹیٹ کونسل عاطف محمود نے پراسیکیوشن کے گواہان پر جرح کی سرگرمی مکمل کی۔
ملزمان کے وکلائے صفائی نے انسدادِ دہشتگردی عدالت کے اس فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔