پشاور اسکول سانحہ، بچوں کے ادھورے خواب اور غمزدہ خاندانوں کی داستانیں
پشاور: دیر کالونی کے الخیر ایجوکیشن سینٹر کی چھت گرنے کے دلخراش واقعے میں 33 معصوم بچے اور خاتون ٹیچر ثمرین بی بی جان کی بازی ہار گئے؛ متاثرہ والدین کے دل دہلا دینے والے انکشافات۔
امید نیوز: پشاور کے علاقے دیر کالونی میں واقع نجی اسکول الخیر ایجوکیشن سینٹر کی عمارت زمین بوس ہونے کے المناک سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 34 ہو گئی ہے۔ امید نیوز کی اطلاعات کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 6 سے 14 سال کی عمر کے 33 بے گناہ بچے اور ان کی 25 سالہ خاتون ٹیچر ثمرین بی بی شامل ہیں، جس کے بعد پورا شہر شدید غم و الم میں ڈوبا ہوا ہے۔
امید نیوز کو موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق اس حادثے نے درجنوں خاندانوں کے مسکراتے چراغ گل کر دیے ہیں۔ کئی بچے جن کی آنکھوں میں پولیس افسر دل، ڈاکٹر اور مذہبی اسکالر بننے کے خوبصورت خواب تھے، وہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے۔ حادثے میں جاں بحق ہونے والے 13 سالہ بچے کے والد اکرام اللہ نے اپنے گہرے غم کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا دل اور دماغ اس شدید صدمے سے فلج ہو چکا ہے اور یہ دُکھ برداشت سے باہر ہے۔
جنازے اٹھنے پر علاقے کا ہر شخص آبدیدہ نظر آیا جبکہ والدین اپنے بچوں کی یادوں کے ساتھ کبھی نہ ختم ہونے والے انتظار کی کیفیت میں ہیں۔ واضح رہے کہ واقعے کے فوراً بعد پاک فوج کے جوانوں اور ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے فوری آپریشن کر کے ملبے تلے دبے افراد کو نکالا تھا۔ غفلت کے مرتکب نجی اسکول کے مالک کو پولیس پہلے ہی حراست میں لے چکی ہے اور عمارت کے غیر معیاری مٹیریل و ساخت کی تحقیقات جاری ہیں۔