امریکا نےجنگ کےخاتمے کیلئے ایران کو 15 نکاتی منصوبہ بھیج دیا: امریکی اخبار

trump iran

امریکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ امریکا نےجنگ کےخاتمے کیلئے ایران کو 15 نکاتی منصوبہ بھیج دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکا نے مطالبہ کیا ہے کہ ایران کی سرزمین پر کسی بھی مواد کی افزودگی نہ کی جائے جبکہ نیطنز، اصفہان اور فردو کےجوہری پلانٹس کوختم کیاجائے۔

امریکی اخبار کے مطابق امریکا نے ایران سے مطالبہ کیا کہ آبنائے ہرمز میں آزاد میری ٹائم زون قائم کیاجائے جبکہ ایران کوخطےمیں پراکسیز کو فنڈنگ بند کرناہوگا۔

مکمل 15 نکات کی آفیشل دستاویز ابھی تک عوام کے سامنے جاری نہیں کی گئی ہے۔ نیویارک ٹائمز، نیویارک پوسٹ، اسرائیل کے چینل 12، ہیریٹز، گارڈین اور دیگر معتبر ذرائع نے صرف 14 نکات یا ان کے اہم آؤٹ لائنز بتائے ہیں۔ ایک نکتہ ابھی تک “confidential” رکھا گیا ہے یا تفصیل سے نہیں بتایا گیا۔

دستیاب 14 نکات (امریکی مطالبات) یہ ہیں:

ایران اپنی موجودہ تمام نیوکلیئر صلاحیتوں کو ختم کر دے (dismantle existing nuclear capabilities)۔
ایران کبھی بھی نیوکلیئر ہتھیار نہیں بنائے گا (permanent commitment never to pursue nuclear weapons)۔
ایرانی سرزمین پر کوئی یورینیم افزودگی (enrichment) نہیں ہو گی۔
ایران اپنے پاس موجود تمام افزودہ یورینیم کا ذخیرہ (تقریباً 440-450 کلوگرام) IAEA کے حوالے کر دے۔
نطنز، اصفہان اور فردو کے تین بڑے نیوکلیئر پلانٹس کو مکمل طور پر ڈی کمشن اور تباہ کر دیا جائے۔
IAEA کو ایران کے تمام نیوکلیئر سائٹس پر مکمل رسائی اور انسپیکشن کی اجازت ہو۔
ایران اپنے علاقائی پراکسیز (حزب اللہ، حوثی، حماس وغیرہ) کی “پراکسی پیراڈائم” ختم کر دے۔
ایران پراکسیز کو فنڈنگ، ہدایات اور ہتھیار دینا بند کر دے۔
آبنائے ہرمز کو فری میری ٹائم زون (کھلا سمندری راستہ) بنایا جائے — کوئی بلاک نہیں کیا جائے گا۔
ایران کے میزائل پروگرام پر سخت پابندیاں (رینج، تعداد اور استعمال محدود — صرف خود دفاع کے لیے)۔
ایران میزائل پروگرام کو 5 سال کے لیے روک دے یا شدید محدود کر دے۔
تمام بین الاقوامی پابندیاں (سینگشنز) مکمل طور پر اٹھا لی جائیں۔
امریکہ ایران کو بوشہر میں سویلین نیوکلیئر پروگرام کے لیے مدد دے گا۔
ایران کو سیکیورٹی گارنٹی دی جائے گی کہ اس پر دوبارہ حملہ نہیں کیا جائے گا (امریکہ علاقے سے اپنے کچھ فوجی اڈے بھی کم کر سکتا ہے)۔

پندرہواں نکتہ: ابھی تک واضح طور پر سامنے نہیں آیا۔ کچھ رپورٹس کے مطابق یہ میزائل پروگرام پر مزید تفصیلی پابندیاں، علاقائی اینرچمنٹ کنسوریشیم بنانا، یا پیسے کے استعمال پر پابندی (جو پابندیوں میں نرمی کے بعد ملے) سے متعلق ہو سکتا ہے۔

ایران کا سرکاری موقف:

ایران نے امریکی 15 نکاتی منصوبے کو مسترد کر دیا ہے یا اس پر کوئی مثبت جواب نہیں دیا۔
ایران مکمل طور پر انکار کر رہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کوئی براہ راست یا بالواسطہ مذاکرات ہو رہے ہیں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے بیانات ("اچھی بات چیت”، "15 نکاتی معاہدہ”، "مشترکہ کنٹرول” وغیرہ) "فیک نیوز” ہیں، جو صرف تیل کی قیمتیں کم کرنے اور مارکیٹس کو پرسکون کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

اہم ایرانی بیانات:

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا:
"یہ فیک نیوز ہے جو مالی اور تیل کی مارکیٹس کو маниپولیٹ کرنے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔ امریکہ سے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔”
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی (Abbas Araghchi) نے متعدد انٹرویوز میں کہا:
"ہم نے کبھی سیز فائر نہیں مانگا، نہ ہی مذاکرات کی درخواست کی ہے۔ ہم اپنے دفاع کے لیے جتنا وقت لگے لڑنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے غیر قانونی جنگ ہے جس میں انہیں کوئی فتح نہیں ملے گی۔”
یران کا موقف ہے کہ کوئی سنجیدہ بات چیت نہیں ہو رہی۔ صرف ثالثی ممالک (پاکستان، مصر، ترکی، عمان) کے ذریعے کچھ پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے، لیکن اسے مذاکرات نہیں کہا جا سکتا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے