ایک خاتون کو ڈرانے پر پولیس نے روبوٹ کو ‘گرفتار’ کرلیا

fc5ffe5f-a141-4d3f-a65a-81934505bbea

مکاؤ: سڑک پر خاتون کو ڈرانے والے ‘ہیومنائیڈ روبوٹ’ کی پولیس کے ہاتھوں ‘گرفتاری’

​مکاؤ:چین کے خصوصی انتظامی علاقے مکاؤ میں ایک انوکھا واقعہ پیش آیا ہے جہاں پولیس کو ایک جدید ‘ہیومنائیڈ’ (انسان نما) روبوٹ کو "حراست” میں لینا پڑ گیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز نے اس واقعے کو "دنیا کی پہلی روبوٹ گرفتاری” کے طور پر مشہور کر دیا ہے، جس میں ایک پولیس اہلکار روبوٹ کا کندھا پکڑ کر اسے سڑک سے لے جاتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
​واقعہ کیا تھا؟
​مارچ 2026 کے پہلے ہفتے کی ایک سرد رات، تقریباً 9 بجے، ایک 70 سالہ عمر رسیدہ خاتون سڑک پر چلتے ہوئے اپنا فون چیک کرنے کے لیے رکیں۔ جب انہوں نے مڑ کر دیکھا تو ان کے عین پیچھے Unitree G1 ماڈل کا ایک 4 فٹ 4 انچ لمبا روبوٹ ساکت کھڑا تھا۔ خاتون اچانک سامنے موجود اس مشینی وجود کو دیکھ کر شدید خوفزدہ ہو گئیں اور چیخیں مارنا شروع کر دیں۔
​عینی شاہدین کے مطابق، خاتون نے گھبراہٹ میں اپنا بیگ ہلایا اور روبوٹ پر برس پڑیں: "تم نے میرا دل دہلا دیا! کیا تم پاگل ہو؟ یہ فضول حرکتیں کیوں کر رہے ہو؟”
​اس دوران صورتحال اس وقت مزید عجیب ہو گئی جب روبوٹ نے اپنے مشینی بازو اوپر اٹھا لیے۔ اگرچہ یہ روبوٹ کے دفاعی پروگرام یا ‘سرنڈر’ موشن کا حصہ معلوم ہوتا تھا، لیکن خاتون نے اسے مزید خطرہ تصور کیا۔
​پولیس کی کارروائی اور ‘گرفتاری’
​اطلاع ملتے ہی مکاؤ پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ صورتحال کی نزاکت اور عوامی خوف و ہراس کو دیکھتے ہوئے پولیس نے روبوٹ کو فوری طور پر وہاں سے ہٹا دیا۔ انٹرنیٹ پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس والا روبوٹ کو اس طرح لے جا رہا ہے جیسے کسی مجرم کو گرفتار کیا جاتا ہے، تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ باقاعدہ قانونی گرفتاری نہیں بلکہ عوامی تحفظ کے لیے کیا گیا ایک اقدام (Safety Intervention) تھا۔
​خاتون کی حالت اور روبوٹ کا انجام
​خاتون کو صدمے اور دل کی دھڑکن تیز ہونے کے باعث احتیاطی طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں طبی معائنے کے بعد انہیں ڈسچارج کر دیا گیا۔
​تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ روبوٹ ایک مقامی تعلیمی سینٹر کی ملکیت تھا، جسے پروموشنل مقاصد کے لیے وہاں رکھا گیا تھا۔ پولیس نے روبوٹ کو اس کے مالکان کے حوالے کرتے ہوئے سخت وارننگ دی ہے کہ عوامی مقامات پر ایسی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے وقت شہریوں کی حفاظت اور پرائیویسی کا خاص خیال رکھا جائے۔
​عالمی میڈیا کی توجہ
​اس واقعے کو NY Post، Daily Mail، اور South China Morning Post سمیت پاکستانی میڈیا ہاؤسز جیسے آج نیوز اور جیو نیوز نے بھی نمایاں کوریج دی ہے۔ ماہرین اسے مستقبل کی ایک جھلک قرار دے رہے ہیں جہاں انسانوں اور روبوٹس کے درمیان اس قسم کے ٹکراؤ عام ہو سکتے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے